17 اگست 2010 - 19:30

گذشتہ روز کراچی کے علاقے بہادر آباد میں کالعدم دہشت گرد ٹولے سپاہ صحابہ کے ناصبی دہشت گردوں نے گھات لگاکر فائرنگ کرکے نیو ٹاوئن تھانے کی حدود بہادر آباد چورنگی کے قریب ڈرائی فروٹ کی دکان کے سیلز مین شیعہ نوجوان شہزاد رضا کو شہید کردیا تھا اور فرار ہوگئے تھے۔

شہید شہزاد رضا کی نماز جنازہ گذشتہ روز بعد نماز مغربین فیڈرل بی ایریا، انچولی میں امام بارگاہ شاہ کربلا میں ادا کی گئی جس میں سینکڑوں شیعیان حیدر کرار نے شرکت کی، اس موقع پر پولیس نے پر امن شرکائے نماز جنازہ کو اس وقت ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور شہید کے پر امن نماز جنازہ کو سبو تاژ کرنے کی گھناؤنی سازش کی۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے مرکزی رہنما شبررضا نے شیعت نیوز کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ شہر بھر سے سینکڑوں شیعیان حیدر کرار شہید کی نماز جنازہ میں شریک تھے کہ اچانک پولیس نے پر امن اور نہتے شیعیان اہل بیت (ع) کو اپنے ظالمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے لاٹھی چارج اور شیلنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین پر امن طور پر حکومت وقت سے اپنا احتجاج کر رہے تھے کہ گذشتہ کئی دنوں سے شہر میں شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر حکومت بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے ،لہذٰا حکومت کی مجرمانہ خاموشی اور بے حسی کے خلاف ملت جعفریہ شہید شہزاد رضا کے جنازے میں سراپا احتجاج تھی کہ وردی والے دہشت گردوں نے مظلوم اور نہتے شیعہ افراد کو اپنے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس اور رینجرز نے مظاہرین پر فائرنگ کی،جس کی وجہ سے ملت جعفریہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت سندھ کالعدم دہشت گرد جماعتوں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور طالبان دہشت گردوں کی سر پر ستی کر رہی ہے اور مظلوم نہتے شیعیان پاکستان کی نسل کشی کا منصوبہ بنا چکی ہے۔دوسری جانب سے بات قابل ذکر ہے کہ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہزاد کے بھائی آصف رضا کو بھی یکم جون کو رضویہ تھانے کی حدود میں شہید کردیا گیا تھا جس کا کسی سیاسی و مذہبی جماعت سے تعلق نہیں تھا۔ پولیس کاکہنا ہے کہ شہید شہزاد رضا کے بھائی کے قتل کا مقدمہ بھی نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ شہید شہزاد رضا سمیت اب تک درجنوں شیعہ افراد کو کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کے ناصبی دہشت گرد دہشت گردی کا نشانہ بنا چکے ہیں اور حکومت تا حال دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے سے قاصر ہے جبکہ نہتے شیعہ افراد پر ہی تشدد کا سلسلہ روا رکھا جا رہا ہے۔........

/110